15 اپریل 2013 - 19:30
بوسٹن ميں دھماکے،اہم شہروں ميں ہائي الرٹ

وائٹ ہاؤس نے بوسٹن شہر ميں بم دھماکوں کو دہشت گردانہ حملہ قرار دے ديا ہے -

ابنا: وائٹ ہاوس کے ايک عہدے دار نے کہا ہے کہ بوسٹن کے بم دھماکوں کي تحقيقات دہشت گردانہ کارروائي کي شکل ميں کي جائيں گي - اس سے قبل ايف بي آئي نے بھي بم دھماکوں کو دہشت گردانہ کارروائي قرار ديا تھا –اس سے قبل امريکي صدر نے  ذرائع ابلاغ سے بوسٹن کے دھماکوں کے بارے ميں جلد بازي ميں نتيجہ اخذ نہ کرنے کي درخواست کي تھي –امريکي صدر باراک اوباما نے بوسٹن کے دھماکوں کے بعد ايک پريس کانفرنس ميں ، کہا تھا کہ بوسٹن دھماکوں کے سلسلے ميں جلد بازي ميں فيصلہ نہيں کرنا چاہئے –امريکي صدر نے کہا تھا کہ بوسٹن شہر ميں ہونےوالے دھماکوں کے ذمہ داروں اور ان کے مقصد کے بارے ميں ابھي تک کچھ پتہ نہيں چلا ہے ليکن حکومت ہر حال ميں ذمہ داروں کي گرفتاري اور ان کے خلاف کارروائي کي پابند  ہے –امريکہ کے بوسٹن شہر ميں بم دھماکوں کے بعد نيويارک ، واشنگٹن ، لاس انجلس سميت مختلف شہروں ميں حفاظتي انتظامات سخت کر ديئے گئے ہيں جبکہ وائٹ ہاوس اور پينٹاگون کے اطراف بھي سيکوريٹي سخت کردي گئي ہے  -بوسٹن دھماکوں کي ذمہ داري کسي نے نہيں لي ہے –بوسٹن دھماکوں ميں ايک آٹھ سالہ بچہ بھي ہلاک ہوا ہے –پير کے روز بوسٹن ميں ہونے والے تين  بم دھماکوں ميں کم ازکم  تين لوگ ہلاک اور سو سے زائد زخمي ہوئے ہيں جبکہ کچھ ذرائع نے ہلاک ہونے والوں کي تعداد بارہ بتائي ہے  بوسٹن ميں دو دھماکے اس وقت ہوئے جب ميراتھن دوڑ ہورہي تھي يہ دونوں دھماکے ميراتھن دوڑ کي اختتامي لائن پر ہوئے جبکہ تيسرا دھماکہ جان اف کنڈي لائبريري ميں ہوا -دھماکوں کے بعد وہاں موجود لوگوں ميں افراتفري مچ گئي اور بوسٹن شہر ميں موبائل فون کي سروس منقطع ہوگئي ہے –

.......

/169